WhatsApp Image 2026-04-21 at 6.43.08 PM

پہلو

Table of Contents

صابر مغل ایڈووکیٹ

پاکستان ریلوے اور پنجاب حکومت میں شاندار اشتراک

ریلوے کو دنیا کی سب سے سستی محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت مانا جاتا ہے اقتصادی ترقی اور نقل و حمل کا ایک بنیادی ستون ہے دنیا میں بہترین سے بہترین تیز رفتار اور محفوظ وسیع نیٹ ورک پر توجہ دی جا رہی ہے نت نئے تجربات جاری ہیں چاپان منظم اور شاندار ریلوے سسٹم کے تحت دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ چین گو وہ عالمی رینکنگ میں ٹاپ ٹین معیاری پوزیشن میں نہیں اس کے باوجود وہ دنیا کی تیز رفتار پہلی پانچ ٹرینوں میں سے تین اس کی ہیں چین میں ریلوے کا 50 ہزار سے زائد کلومیٹر طویل ہائی سپیڈ نیٹ ورک موجود ہے پاکستان میں اس نظام پر وہ توجہ ہی نہیں دی جا سکی جو اس مملکت کی بنیادی ضرورت تھی ریلوے نظام ہر مملکت باالخصوص ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حثیت کا حامل ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت اور پاکستان ریلوے نے ایک بہترین اور شاندار اشتراکی معاہدے پر دستخط کئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر ریلوے حنیف عباسی نے لاہور میں ریلوے میں نئی جہت اور جدیدیت کے حوالے سے ایک تاریخ ساز ایم او یو ہر سائن کئے ان منصوبوں میں پاکستان کی پہلی تیز رفتار ٹرین چلائی جائے گی جو راولپنڈی سے لاہور 280 کلومیٹر کا فاصلہ صرف سوا دو گھنٹے میں طے کرے گی پنجاب 22 ریجنز کے 8 لوکل روٹس ہر مجموعی طور ہر 1415 کلومیٹر طویل نیٹ ورک قائم ہو گا

جس پر اب جدید ٹرینیں چلیں گی پنجاب حکومت ان علاقائی روٹس پر جدید ڈی ایم یو ٹرینیں فراہم کرے گی اس منصوبے کے تحت شاہدرہ تا ناروال 79 ناروال تا سیالکوٹ 62 قصور رائیونڈ قصور پاکپتن تا لودھراں 370 شیخوپورہ جڑانوالہ تا شورکوٹ 220 لالہ موسیٰ ملکوال تا سرگودھا 147 فیصل آباد چک جھمرہ تا شاہین اباد 68 کوٹ ادو تا ڈیرہ غازی خان و کشمور 303 کلومیٹرز پر محیط ہیں آخرالذکر پراجیکٹ بین الصوبائی راہوں کو بھی مضبوط کرے گا اس منصوبے کے تحت نئے ریلوے انجن جدید انفراسٹرکچر متعارف اسٹیشنز کی بیوٹیفکیشن عالمی معیار کی پارکنگ ریلوے حادثات کے سد باب کے لیے خود کار نظام ٹریک کے اطراف میں گرین پارکس اور شجر کاری ہو گی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے مطابق ہم پنجاب کے عوام کو یورپ کے معیار کے مطابق سفری سہولیات فراہم کرنے کا عزم رکھتے ہیں مربوط نظام کے تحت صرف نئے انجنز جدید کوچز ان میڈ کراسنگز پر مزید اربوں روپے خرچ ہوں گے وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اس موقع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان ریلوے پر پنجاب حکومت کی معاونت سے اس حد تک سرمایہ کاری شروع ہونے جا رہی ہے اس عظیم پراجیکٹ کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ہی لیڈ َ اور سپر وائز کریں گی ان کی قیادت میں پنجاب ہیلتھ ایجوکیشن سمیت 17 مزید منصوبوں میں انقلابی اقدامات کئے جا چکے ہیں ریلوے کے اس منصوبے میں شاہدرہ سے رائے ونڈ تک 40 کلومیٹر ایریا میں گرین پارکس بنیں گے جبکہ لاہور سے راولپنڈی تک ٹریک کے ساتھ چار لاکھ پودے لگائے جائیں گے مریم نواز شریف کے ان اقدامات سے پنجاب حکومت اور ریلوے کے اشتراک کے تحت 9 نئے روٹس پر تقریبا 9 کروڑ سے زائد افراد مستفید ہوں گے کوٹ ادو تا ڈیرہ غازی خان کے علاوہ جنوبی پنجاب میں ملتان صادق آباد رحیم یار خان اور بہاولپور کا کوئی منصوبہ شامل نہیں بلاشبہ کسی صوبائی حکومت کی جانب سے اج تک اتنی انویسٹمنٹ نہیں کی گئی سندھ حکومت کے وزیر اعلیٰ نے 858 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریکس کے لیے اربوں روپے لگانے کا ایک میٹنگ میں باضابطہ کہا تھا مگر تاحال اس پر کسی عملی کام کا آغاز نہیں ہو سکا واضح رہے کہ سندھ میں ہی سکھر تا کراچی مین ریلوے لائن کا ہی سب سے خراب ٹریک ہے پاکستان ریلوے کا سب سے زیادہ نقصان جنرل ضیاء الحق کے دور سے شروع ہوا جہاں جہاں گڈز کے اور مسافر بسوں کے با اثر ٹراسپورٹرز موجود تھے وہیں ریلوے کا بیڑا غرق کیا جانا شروع ہو گیا ٹرینوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی گئی پاکستان کے پہلے موٹر وے کے قیام سے قبل فیصل آباد سے راولپنڈی تک ایک بہترین ٹرین کا آغاز کیا گیا ( تب اس علاقے کے لوگ کھاریاں سرائے عالمگیر کے قریب جی ٹی روڈ پر پہنچ کر راولپنڈی اسلام آباد جاتے تھے) جس سے متعدد شہروں سینکڑوں قصبات و دیہات کے لوگ مستفید ہونے لگے تو اس وقت کے ایک انتہائی بااثر ٹراسپورٹر کی وجہ سے ٹرین کا وہ روٹ بند کر دیا گیا حالانکہ وہ ٹرین نہ صرف مسافروں کےلئے بہترین بلکہ حکومتی ریوینیو میں بھی اضافے کا سبب بن رہی تھی کے پی کے سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر ریلوے نے پختون گڈز ٹرانسپورٹ مافیا کی وجہ سے مال بردار گاڑیوں کی تباہی و بربادی میں کلیدی کردار ادا کیا اس وقت بھی اس سستی سواری کے بدنیتی کے طور پر عوام کے لیے عذاب بنا کے رکھا گیا ہے رات ہی کی بات ہے لاہور سے فیصل آباد تک آنے والی ٹرین غوری ایکسپریس 2 گھنٹے 8 منٹ تاخیر کا شکار تھی کراچی سے آنے والی علامہ اقبال ایکپریس 9 گھنٹے لیٹ ہو کر ابھی نارنگ منڈی کراس کر رہی تھی پاکستان کی نامور ٹرینیں شالیمار ایکسپریس پاک بزنس تیز گام کراچی ایکسپریس تین سے پانچ گھنٹے لیٹ جبکہ رحمان بابا 8 گھنٹے لیٹ تھی دیگر کا بھی حال تھا سوال پیدا ہوتا ہے ایسا کیوں ہے؟ عوام کو ریلوے سے متنفر کیوں کیا جاتا ہے لاہور سے فیصل آباد آنے والی ٹرین جب 2 گھنٹے لیٹ ہو گی تو فیصل آباد آنے والے اس میں کیوں سفر کریں گے ٹوٹل 3 گھنٹے کا تو سفر ہے حنیف عباسی ریلوے کے اس مافیا پر بھی خصوصی توجہ دیں پاکستاں مپں وقت 7791 کلومیٹر طویل ٹریک میں 7346 براڈ گیج 445 میٹر گیج ہے اور 1043کلو میٹر ڈبل ٹریک ہے لاہور تا خانیوال 285 کلومیٹر طویل برقی ٹریک کامیابی سے چل رہا تھا جسے 2011 میں نہ صرف ختم کر ڈالا گیا بلکہ ذمہ داران 285 کلومیٹر کے اس طویل ٹریک پر لگی اربوں روپے مالیت کی تاریں پول سب ہضم کر گئے آج تک نہیں پتہ چلا کہ تار اور پول مافیا کون سا تھا نہ کسی سے بازپرس ہوئی نہ کوئی کٹہرے میں لایا گیا درحقیقت اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک سب یکجا تھے یہی وجہ بنی کہ سب ہضم ہو گیا 19 ریلوے لائنز بیڈ گورننس اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے کئی دہائیوں سے غیر موثر ہیں مسافروں کی زیادہ تعداد ریل گاڑی میں سفر کو بہت ترجیح دی جاتی ہے ریل گاڑی میں اے سی سلیپر اے سی پارلر اے سی بزنس اے سی سٹینڈرڈ فرسٹ کلاس سلیپر اکانومی اور سیکنڈ کلاس ہوتی ہیں تاکہ ہر طرح کے مسافر ان گاڑیوں سے مستعفید ہو سکے پاک ریلوے کو 8 ڈویژنز کراچی سکھر ملتان لاہور راولپنڈی پشاور کوئٹہ اور گوادر میں منقسم کیا گیا تاہم گوادر تاحال غیر فعال ہے جبکہ ایک نان آپریٹنگ ڈویژن مغل پورہ لاہور بھی ہے جو بنیادی طور پر مرمت اسٹاک کی دیکھ بھال وغیرہ جیسے درجنوں کام کرتا ہے ریلوے کی اہم لائنوں میں سب سے بڑی لائن کراچی تا پشاور 1687 کلومیٹر طویل ہے دیگر میں کوٹری اٹک وغیرہ شامل ہیں ملک بھر میں 35 ایم ریلوے اسٹیشنز جبکہ مین لائن ہر 12 ریلوے جنکشن ہیں پاکستان میں ٹرین نظام 120 کلومیٹر سپیڈ کے لئے بچھا ہوا ہے قیام پاکستان کے بعد پاکستان ریلوے یا پاکستان راہ ابن 1961 تک شمال مغربی فروری 1961 سے 1974 تک پاکستان مغربی ریلوے کے نام سے جانی جاتی تھی 1974 سے اس نظام کا نام پاکستان ریلویز رکھا گیا وہی نام آج تک ہے پہلی ریلوے لائن کا 1861 میں کراچی سے کوٹری تک کا آغاز ہوا 1876 تک راوی چناب اور جہلم پر ریلوے پلوں کی تعمیر مکمل ہوئی تو یہ نیٹ ورک بتدریج ملک کے مختلف حصوں پر پھیلتا چلا گیا پاکستان ریلوے کو تین بنیادی یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں آپریشنز مینوفیکچرنگ َاور خصوصی اقدامات انفراسٹرکچر یونٹ میں مزید سب یونٹ ہیں جن میں سول انجینئرنگ سگنلنگ ٹیلی کمیونیکیشن مکینیکل ڈائریکٹوریٹ آف پراپرٹی وغیرہ شامل ہیں اسلام آباد میں 58 ایکڑ رقبہ ہر محیط کیرج فیکٹری کا قیام 1970 میں جرمنی کے اشتراک سے عمل میں آیا جس میں 13 ایکڑ کا احاطہ قائم ہے یہاں سالانہ 150 کوچز بنانے جانے کی کیپسٹی ہے اسلام آباد کا مارگلہ ریلوے اسٹیشن بھی اسی جگہ ہے ماضی میں متعدد بار ریلوے کی بہتری کے نام پر انجن جدید بوگیاں خرید کی گئیں مگر سب کرپشن اور کمیشن کی نظر ریلوے میں خسارے کی بنیادی وجوہات ہی کمیشن مافیا اہم ٹرینوں کی سیاسی پریشر ہر بندش گڈز ٹرینیں بند سیاسی بھرتی اور ہر جگہ کرپشن ہی کرپشن کا راج امپورٹ کئے گئے انجن میں سے 69 انجن صرف دو سال میں ہی کباڑ کی شکل اختیار گئے اب سنا ہے کہ محکمہ ریلویز پہلی بار مال گاڑی کے ذریعے گاڑیوں کی ترسیل کرنا چاہتا ہے ہر بوگی میں چار گاڑیاں رکھی جا سکیں گی یہ سروس کراچی سے لاہور یا لاہور سے کراچی تک کے لیے ہو گی کیا ستم ہے اتنا بڑا ملک مگر صرف 100 کے قریب مسافر جبکہ مال گاڑیوں کی تعداد صرف 10 ہے حالانکہ دنیا بھر میں دن رات ریلوے کی بہتری کے لیے کام جاری ہے چین میں اس وقت 50 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک ہے بھارت امریکہ یورپی ممالک بھی اپنے اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے میں مصروف ہیں اور ہم ریلوے کی بجائے مہنگی اور گھٹیا پبلک ٹرانسپورٹ جبکہ مال بردار ریلوے کی جگہ ٹرکوں ہر انحصار کئے ہوئے ہیں جن سے فیول کرایہ شاہراوں پر رش ان کا ستیاناس آلودگی اور مہنگائی جیسی قباحتیں جنم لیتی ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یہ بہت زبردست اقدام ہے جس سے مسافروں کو بہتر سہولیات کے علاوہ حکومتی ریوینیو میں بھی ریکارڈ اضافہ ہو گا

No Comments

You Might Also Like