
خاک اور خون
دنیا کے عالمی اقتصادی اور سیاسی نظام میں چند طاقتور کھلاڑیوں کی گرفت ہے جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے دنیا بھر کے خطوں میں کشیدگیاں اور جنگوں کو بڑھاوا دیا ہے۔ان طاقتوں کا بنیادی ہتھیار اسلحہ اور مالیاتی نظام ہے،جنہیں دنیا میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کا اس کھیل میں سب سے اہم ہتھیار پیٹرو ڈالر ہے،جس کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ 1974ء میں ہونے والی ڈیل نے عالمی سطح پر ڈالر کو تیل کی تجارت کے لیے لازمی قرار دے دیا۔ اس نظام کی بنیاد پر،اگر دنیا کے ممالک تیل کی خرید و فروخت کے لیے ڈالر کا استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں تو امریکہ کا اقتصادی وسیاسی غلبے کا نظام دھڑام سے گر جائےگا اوراس کے اثر و رسوخ کو شدید نقصان پہنچے گا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سیاسی اور اقتصادی جنگ کی جڑیں اس تاریخی معاہدے میں پیوست ہیں۔1953ء میں ایران کی منتخب حکومت کو گرا کر اس کے تیل کے ذخائر کو برطانوی اور امریکی کمپنیوں کے ہاتھوں میں دیا گیا تھا۔1979ء میں خمینی کے انقلاب نے امریکی مفادات کے خلاف بغاوت کی اور ایران نے تیل کی تجارت میں امریکی کمپنیوں کو نکال باہر کیا۔اس کے بعد سے امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے اور اس نے مختلف حربوں سے ایران کو عالمی اقتصادی سسٹم سے علیحدہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔2018ء میں ایران نے چین کے ساتھ یوآن کرنسی میں تیل کی تجارت شروع کر دی،جو امریکی ڈالر کے خلاف ایک طاقتور چیلنج تھا۔
عالمی استعماری طاقتوں کے لیے ایک اور بڑا خطرہ اس وقت محسوس ہوتا ہے جب برکس (BRICS) ممالک اقتصادی محاذ پر متحد ہو کر امریکی نظام کو چیلنج کرنے کی سمت میں قدم بڑھا رہے ہیں۔اگر برکس ممالک نے ڈالر کی بجائے یوآن یا کسی اور کرنسی میں تجارت شروع کر دی تو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے ستون ہل جائیں گے۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے،کیونکہ ان کا پورا اقتصادی ڈھانچہ پیٹرو ڈالر پر انحصار کرتا ہے۔اس کے بعد عالمی سطح پر ایسی حکمت عملیوں کی ضرورت ہو گی جو عالمی ساہوکاروں کے مفادات کو چیلنج کریں اور نئے اقتصادی و سیاسی اتحادوں کو فروغ دیں۔اس کے باوجود،امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے جنگوں،پراکسی جنگوں اور دیگر عالمی بحرانوں کو بڑھا کر اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھنے کی کوشش میں ہیں۔
ایران،چین اور روس نے حالیہ برسوں میں افریقہ،مشرق وسطی میں اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کی ہے تاکہ عالمی استعماری قوتوں کو چیلنج کیا جا سکے۔ان ممالک نے نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی تاکہ وہ امریکی مفادات کے شکنجے سے آزاد ہو سکیں۔تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اپنے مفادات کو بچانے کے لیے اسرائیل کو مشرق وسطی میں ایک فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یوکرین کی مدد سے روس کے خلاف ایک جنگ چھیڑ کر اسے انگیج کیا ہوا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ،چین کو تائیوان کے مسئلے کے ذریعے چیلنج کرتا رہتا ہے تاکہ اس کی ترقی اور اثرورسوخ کو روک سکے۔
ان حالات میں عالمی سطح پر ایک مضبوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ان عالمی استعماری قوتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔اس حکمت عملی میں ایشیا کے ممالک کو یکجا کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بدمعاشیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔بڑی بات ہو اگر سمجھداری،دوراندیشی سے کام لے کر انڈیا،پاکستان،ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جائے تاکہ مشرق وسطی اور اس کے آس پاس کے خطوں میں جنگوں کو روکا جا سکے۔اس کے علاوہ برکس ممالک کو اپنے اقتصادی و سیاسی مفادات کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔اس طرح عالمی سطح پر استعماری سرمایہ داری کے خلاف ایک مضبوط دیوار ممکن ہو سکتی ہے۔
آخرکار اگر عالمی استعماری قوتوں کو ان کے منصوبوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو مشرق وسطی اور دنیا کے دیگر خطوں میں امن کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔اس کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت ایک نئے عالمی اقتصادی نظام کی تشکیل کی ضرورت ہےجو نہ صرف سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کا ریشنل بنیادوں پرمتبادل ہو،بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو۔اس جنگی، اقتصادی،اور سیاسی ماحول میں عقل مندی کی حکمت عملی ہی وہ راستہ ہے جو اس استعماری نظام سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاکہ خاک اور خون کے کھیل سے نکلا جا سکے جو سامراجی استحصالی استعماری عالمی شیطانی قوتوں نے رچایا ہوا ہے۔سچ یہی ہے کہ جنگ اور امن کے درمیان ڈالر اسلحہ اور پاور ہے جب تک ڈالر اور اسلحہ کا کھیل جاری رہے گا امن ممکن نہیں۔
Copyright 2026 Site. All rights reserved powered by Bluntline.
No Comments