
قَسم اورقِسم
میں اپنے بچپن سے پچپن تک یہ بات سنتاآ رہا ہو ں،پاکستان نازک دور سے گزررہا ہے۔نازک دور سے گزر نیوالے مقروض ملک کے محدود وسائل نازک مزاج حکمران اشرافیہ کی”دسترس“ میں ہیں اورانہیں ملک وقوم کی حالت زار پرہرگز”ترس“ نہیں آتا۔ان پانچ دہائیوں میں دیکھتے دیکھتے کئی سول وفوجی آمروں کا اقتدار اختتام پذیر ہوگیا لیکن بدقسمتی سے ہماری ماں جیسی ریاست کا نازک دور ختم نہیں ہوا۔ہم نے اپنے ہاتھوں سے باپ دادا کو اپنی آنکھوں میں نظام کی تبدیلی اورخوشحالی کاخواب سجائے قبورمیں اتاردیا لیکن ہماراریاستی نظام آج بھی عوام سے انتقام لے رہا ہے۔ ہمارے حکمران”عربوں“ اور”اربوں“میں کھیلتے اوراپنے ہم منصب حکمرانوں کے ساتھ نجی تعلقات بناتے رہے جبکہ ہماراپاکستان مقروض ہوتا گیا اورآج عربوں سے لیا اربوں کاادھار واپس کرنے کیلئے دوسرے عربوں سے مزید اربوں کاقرض لیا جارہا ہے اورپھربھی حکمران ڈھٹائی کے ساتھ معاشی مضبوطی کامژداسناتے ہیں۔ہمارے حکمران دوسرے ملکوں کے حکمرانوں کے ساتھ اپنے نجی تعلقات سے مستفید ہوتے رہے ہیں لیکن آج تک پاکستان کو بحیثیت ریاست کسی قسم کاکوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ہماری حکمران اشرافیہ نے مخصوص ملکوں سے بار بار سودپرقرض اٹھانا خود پرفرض سمجھ لیا ہے۔جس ریاست کے سٹیل ملز،پی ٹی سی ایل اورپی آئی اے سمیت متعدد قابل فخر قومی اثاثوں کومحض کوڑیوں کے دام نیلام کیاجاتا رہا اس ملک میں حکمرانوں کانجی کاروبارکس طرح خوب چمکتا اوردن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا ہے۔جوامیر کبیر حکمران عوام پرباری باری بجلی اورپٹرول بم گراتے ہیں انہیں اس مقروض ملک میں سب کچھ مفت اوران کی ضرورت سے بہت زیادہ ملتا ہے،پھر بھی یہ مٹھی بھر مفت خورکئی دہائیوں سے مال مفت دل بے رحم کی طرح الٹا قومی وسائل میں نقب لگا تے ہیں۔راقم کے نزدیک ”مفت خور“ یقینا ”آدم خور“ سے بدتر ہے،مفت خور حکمران عوام کوخواراوران کی عزت نفس تار تار کررہے ہیں۔حکمرانوں سمیت ان کے بیوی بچوں کے کانوائے میں شریک بیسیوں یاپچاسوں گاڑیوں کوبے حساب پٹرول سوفیصدمفت ملتا ہے،اقتدارمیں آنے کے بعدان کاہرایک نجی قصربھی کیمپ آفس ڈکلیئر ہوجاتا ہے۔ حکمرانوں کااپنے اپنے دوراقتدارمیں اندرون وبیرون ملک آنا جانا اور وہاں قیام وطعام کامالی بوجھ بھی مقروض ریاست کی نحیف وناتواں معیشت کوبرداشت کرناپڑتا ہے۔جس اشرافیہ کے افرادسالہا سال آمدورفت کیلئے اپنی نجی گاڑیاں استعمال کرتے تھے وہ اقتدارملنے کے بعد واش روم جانے کیلئے بھی سرکاری جہاز یا گاڑی کااستعمال کرتے ہیں۔اس دنیا میں اعدادوشمار کواوپرنیچے کیاجاسکتا ہے لیکن روز محشر حساب اوراحتساب میں فرق باقی نہیں رہے گاسو جس نے اقتدار کی زیادہ باریاں اورزیادہ مراعات لی ہیں ان کا یقینا حساب بھی زیادہ ہوگا۔
یہ دنیاکاواحد ملک ہے جہاں شدید معاشی ابتری، مایوسی،ناامیدی، بے یقینی اوربے چینی کے باو صف جو باہمت لوگ اپنااپنا کاروبار کر رہے ہیں، ان بیچاروں سے متعدد ٹیکسز کی وصولی کے باوجودانہیں زورزبردستی مادرعلمی، دکانیں اورہوٹل بندکرنے پرمجبورکیاجاتا ہے۔دشمن ریاست بھارت اوربرادراسلامی ملک بنگلہ دیش کو بھی مفلسی اور معاشی ناہمواری کاسامنا ہے لیکن وہاں توتعلیمی اورکاروباری مراکز اِس طرح بزور طاقت بندنہیں ہوتے۔قطاروں میں کھڑے عوام بجلی کے ہوشربااور متنازعہ بل بھی مقررہ وقت پر اداکررہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔دکانوں سمیت کاروباری مراکز کی بندش سے نہیں بلکہ ”نان سٹاپ“ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے معیشت ٹیک آف کرے گی۔دکاندار اپنی دکان کس وقت بندکرے گایہ فیصلہ اسے کرنے دیاجائے۔ اگرسرکاری دھونس اور مداخلت پراس کی دکان بندرہے گی توو ہ ریاست کوکئی طرح کے ٹیکسز اوراپنے اہل خانہ کو بہتر زندگی کہاں سے دے گا۔یہ کس قسم کی جمہوریت ہے جہاں جمہور کے اجتماعی فیصلے کونام نہاد منتخب حکمران تسلیم نہیں کرتے۔8فروری2024ء کوہونیوالے عام انتخابات سے قبل عوامی اجتماعات میں جوسیاستدان دوسواورتین سوبجلی یونٹ فری دینے کے اعلانات کررہے تھے وہ آج قیمتاً بھی مہنگی ترین بجلی نہیں دے رہے۔جوسیاستدان ایوان اقتدارتک رسائی کیلئے زندگی بھر ایک پائی کی کرپشن نہ کرنے کی ”قَسم“ اٹھاتا اوردعویٰ کرتا ہے، اس”قِسم“ کے چورن فروش مقررین،منافقین اورفاسقین پراعتماد نہیں کیاجاسکتا۔مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کے قائدین پچھلی چاردہائیوں سے ”مداریوں“، ”باریوں“ اور”یاریوں“ کے مزے لے رہے ہیں اورپھر بھی انہیں مختلف مقامات پر آئینی مدت پوری نہ کرنے کاشکوہ کرتے دیکھا جاتا ہے۔ چاردہائیوں میں ان کی کئی”باریاں“ اور”یاریاں“ انہیں بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہیں۔میں پھر دہراتاہوں ہمارے ملک کا صنعتکار اورسرمایہ دار طبقہ کسی”مفلس“سے ”مخلص“نہیں ہوسکتا۔

کسی بھی ہوٹل میں جوزیادہ طعام یاقیام کرتے ہیں ان کابل بھی زیادہ بنتا ہے،اس طرح روزمحشر ناداروں سے ان کی مختصر معیشت کا مختصر جبکہ امراء سے فراوانی نعمت کابھرپور حساب لیاجائے گا۔جس طرح حق اورباطل میں زمین آسمان کافرق ہے اس طرح ریاست ناداروں اورامیروں سے ان کے دستیاب وسائل کودیکھتے ہوئے بجلی،گیس اورپٹرول سمیت دوسری شہری سہولیات کی قیمت وصول کرے۔ان دومختلف طبقات کوایک ڈنڈے سے نہیں ہانکا جاسکتا۔راقم کاارباب اقتدار واختیار سے ایک سادہ سوال ہے،جس طرح تین یاچار مرلے کے مکان اور چار کنال کی کوٹھی یاچھ کنال کے محلات کے مالکان ریاست کویکساں ٹیکس ادا نہیں کرتے توپھر ڈیڑھ، دویاتین لاکھ کی موٹرسائیکل اورچار سے پانچ کروڑ کی گاڑیوں کے مالکان سے پٹرول کی مساوی قیمت کیوں وصول جاتی ہے،موٹرسائیکل اورلگژری گاڑیوں کے مالکان برابری کی بنیاد پر لیوی ٹیکس اداکرنے کے پابندکیوں ہیں۔ ناداروں کے کندھوں سے اضافی بوجھ اتارنا اوراشرافیہ کے شانوں پرمنتقل کرناہوگا ورنہ ہمارے معاشرے کے نادارافراداپنی محرومیوں کاروناروتے اور زندہ درگور ہوتے رہیں گے۔
پاکستان میں کئی دہائیوں سے مدبرومخلص قیادت کاقحط تھا، قیام پاکستان سے اب تک آمریت اورنام نہاد جمہوریت کے تجربات کے باوجود ضروریات زندگی کی قلت ختم نہیں ہوئی۔دنیا بھر میں رائج اصول کے تحت جودوڑ میں پیچھے رہ جائے وہ اپنی کامیابی یقینی بنانے کیلئے زیادہ تیز دوڑتا ہے۔زندہ ضمیر اورذمہ دار معاشروں کے باشعور لوگ توانائی کی قلت پرقابوپانے کیلئے دن رات محنت مشقت کواپنا شعار بناتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بجلی پیداکرنے کیلئے زیادہ کام اورترجیحات درست کرنے کی بجائے نادان حکمران طبقہ اس کی بچت کیلئے زیادہ چھٹیوں کوراہ حل سمجھ رہا ہے۔ہمارے محبوب قائدؒ نے فرمایا تھا،”کام،کام اورکام“، آج بابائے قومؒ کے پاکستان میں مخصوص قومی چورکواعلیٰ عہدیدار جبکہ عوام کوکام چور بنایاجارہا ہے۔اگر ہم بحیثیت قوم ہٹ دھرمی اوربے شرمی کے ساتھ بیجا”چھٹیاں“ اور مقروض ریاست کے وسائل پرعیاشیاں کرتے رہے تومعاشی محاذ پرہماری ”چھٹی“ہوجائے گی جبکہ ہم قیامت کی سحرتک سود پراٹھائے قرض کابوجھ اتارنے کی بے سودکاوش کرتے رہیں گے۔جس طرح زرعی ملک میں قوم کی غذائی ضروریات کودیکھتے ہوئے گندم کاشت کرنے کی بجائے عوا م کودن میں دوکی بجائے ایک وقت طعام کرنے کامشورہ دینا ایک بھونڈا مذاق تصور ہوگااس طرح ایٹمی پاکستان میں گھریلوصارفین،انڈسٹری اورکاروباری طبقات کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کسی تعطل کے بغیر24/7بجلی کی فراہمی یقینی بناناارباب اقتدارواختیار کافرض منصبی ہے، شعبدہ بازحکومت گرمی کے موسم میں شہریوں کوبجلی بچانے کے نام پراندھیروں اورانگاروں میں نہیں جھونک سکتی۔
چار”دہائیوں“ سے”رحم کرو رحم کرو“ کی ”دوہائیوں“ کے باوجود حکمران طبقہ انتہائی”جنون“ اوراہتمام سے بیچارے عوام کا”خون“چوس رہا ہے۔ مانا پٹرول اورڈیزل کے جہاز سمندرپارسے آتے ہیں لیکن چینی تو مقامی ملز میں تیار ہوتی ہے،آپ میں سے آج تک کسی نے دیکھا یاسنا ہے تومجھے بھی بتادے ”آج تک کسی بھی سیاسی خاندان نے کسی نازک وقت میں عوام کوریلیف دینے کیلئے اپنی شوگرملز کی چینی نصف قیمت پربیچی ہو“۔جوصنعتکار اورسرمایہ دار پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ کربیرون ملک منتقل ہوئے تھے، متنازعہ حکمران کس بنیاد پرانہیں اپنے ملک میں واپس آنے اورسرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔پاکستان سے بیرون ملک ہجرت کرنیوالے صنعتکاروں اورسرمایہ داروں کے اعتماد کی بحالی کیلئے بیانات کافی نہیں،سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔انہیں ایف بی آر سمیت بیسیوں سرکاری محکموں کے ہاتھوں ”ذلت“ اوربجلی کی”قلت“ سے بچانا ہوگا۔جس ملک میں بجلی اورگیس کمیاب ہووہاں مختلف کاروبار کس طرح سیراب ہوں گے۔سیاستدانوں نے محض ووٹوں کیلئے ان دیہات اورقصبات میں بھی گیس فراہم کردی جہاں مقامی سطح پر گوبر گیس کاانتظام کیاجاسکتا تھا۔اب بھی وقت ہے پنجاب سمیت ہرصوبائی حکومت شہروں کابنیادی حق”غصب“ کرنے کی بجائے دیہات میں سرکاری سطح پرگوبر گیس پلانٹ ”نصب“کرے۔دیہات میں طعام کی تیاری کیلئے گوبرگیس یااپلے،چونا،کپاس اورکماد کی باقیات سمیت کئی دوسرے آپشن بھی فراوانی کے ساتھ دستیاب ہیں۔دیہات میں چندمنٹ کیلئے بھی گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی یہ بدترین بحران صرف لاہورسمیت بڑے شہروں تک محدودہے۔یادرکھیں جس وقت تک حکمران اورسیاستدان اپنی نیت اور ترجیحات درست نہیں کرینگے اس وقت تک ریاست کی سمت درست نہیں ہوگی۔حکمران اشرافیہ کواپنا وقار اوراعتماد بحال کرنے کیلئے عوام کامعیارزندگی بلندکرنا ہوگا۔
Copyright 2026 Site. All rights reserved powered by Bluntline.
No Comments