
کالم دار :آصف سلیم مٹھا
عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں ایران اور امریکہ کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی، عدم اعتماد اور ادھورے مذاکرات کی علامت رہے ہیں۔ آج بھی سوال یہی ہے کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی پائیدار مفاہمت ممکن ہے اور اگر ہو جائے تو اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان، پر کیا پڑیں گے؟
اس تنازع کی بنیاد یورینیم کی افزودگی اور ایران کے جوہری پروگرام سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو سختی سے محدود کرے، جبکہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو اپنی خودمختاری اور دفاعی حق قرار دیتے ہوئے اسے بند کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 2015 کا جوہری معاہدہ اسی اختلاف کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش تھی، مگر بعد ازاں پیدا ہونے والی بداعتمادی نے اس عمل کو کمزور کر دیا۔
اگرچہ مکمل صلح فوری طور پر مشکل دکھائی دیتی ہے، لیکن محدود مفاہمت جیسے پابندیوں میں نرمی یا نگرانی کے نظام کا امکان اب بھی موجود ہے۔ تاہم اس ممکنہ مفاہمت کا ایک اہم اور کم زیرِ بحث پہلو یہ ہے کہ اس کے بعد خطے میں الزام تراشی اور سفارتی دباؤ کا رخ بدل سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں احتیاط، شفافیت اور توازن کو برقرار رکھے۔ ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات اور امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط دونوں کو سنبھالتے ہوئے پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا الزام کی زد میں نہ آئے۔

ایسی صورت میں پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔ ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو امریکہ اپنی پالیسی کا رخ بدلتے ہوئے پاکستان پر یہ الزام عائد کرے کہ وہ ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ چاہے یہ الزام حقیقت پر مبنی ہو یا نہ ہو، بین الاقوامی سیاست میں ایسے بیانیے اکثر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ایسی صورت میں پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔ ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو امریکہ اپنی پالیسی کا رخ بدلتے ہوئے پاکستان پر یہ الزام عائد کرے کہ وہ ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ چاہے یہ الزام حقیقت پر مبنی ہو یا نہ ہو، بین الاقوامی سیاست میں ایسے بیانیے اکثر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ خدشہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان خود ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کا جوہری پروگرام پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ کسی بھی نئے الزام سے نہ صرف پاکستان کی سفارتی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے بلکہ اقتصادی اور دفاعی دباؤ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، آبنائے ہرمز جیسے حساس خطوں میں استحکام پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے، کیونکہ کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر اس کی معیشت اور توانائی کی ضروریات پر پڑتا ہے۔
آخرکار، ایران امریکہ مفاہمت اگر ہوتی ہے تو یہ بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہوگی، مگر اس کے بعد کی علاقائی سیاست نئے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں خود کو کس طرح محفوظ، متوازن اور مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔

Copyright 2026 Site. All rights reserved powered by Bluntline.
No Comments