
نوید سعید / سعید احمد ملک
تاریخ کا پہیہ جب اپنی سمت بدلتا ہے تو وہ تہذیبیں جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتی ہیں، ریت کے ڈھیر کی طرح بکھرنے لگتی ہیں۔ آج کی عالمی سیاست جس نازک موڑ پر کھڑی ہے، وہاں واشنگٹن کی وہ مطلق العنان روش اب دم توڑتی محسوس ہوتی ہے جس کے سحر میں پوری دنیا دہائیوں سے جکڑی ہوئی تھی۔ بساطِ عالم پر مہروں کی ترتیب بدل رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے اٹھنے والے تغیرات کے بادل پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے بے قرار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ عالمی پالیسی ایک ایسی پیچیدہ بساط بن چکی ہے جس کی چالیں ہر لمحہ بدل رہی ہیں۔ وہ جہاں ایک طرف ایران کو کڑی تنبیہ اور دھمکیوں سے ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں دوسری جانب ان کے لہجے میں اچانک ستائش اور مفاہمت کا رنگ بھی جھلکنے لگتا ہے۔
We were not in any position to consult with senior managers who had their own hidden agenda
Pauline McManigan, Direct Holidays employee

ٹرمپ کی یہ تلوّن مزاجی، جس میں وہ کبھی تہران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور کبھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ “کافی حد تک معاملات طے پا چکے ہیں”، دراصل ایک سوچی سمجھی نفسیاتی جنگ ہے تاکہ فریقِ مخالف کو مستقل دباؤ میں رکھا جا سکے۔ وہ ایک ہاتھ سے دھمکی کا کارڈ کھیلتے ہیں تو دوسرے ہاتھ سے اطمینان کی نوید سناتے ہیں۔ مغرب کی اسی عیاری اور تضاد بیانی پر حکیم الامت علامہ اقبال نے برسوں پہلے قلم اٹھایا تھا اور فرنگ کی سیاست کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا تھا:
اگرچہ امریکہ اپنے اقدامات کو خطے میں استحکام کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، تاہم زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے کمالِ تدبر اور اعلیٰ درجے کی سیاسی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ تہران نے امریکی قیادت کے ان متضاد پیغامات کے باوجود اپنی خود مختاری پر حرف نہیں آنے دیا اور سفارت کاری کے بند ہوتے دروازوں کو بھی وا کر رکھا ہے۔ ایٹمی قوت کے حق پر ثابت قدمی اور عالمی برادری کے ساتھ بامقصد مکالمے کے مابین ایران کا یہ توازن ٹرمپ جیسے غیر متوقع حکمران کو بھی الجھائے ہوئے ہے۔ ایران کی یہی غیرت اور خودداری اسے عالمی بساط پر ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے، کیونکہ غیرت مند قومیں ہی تاریخ کے دھارے کو موڑنے کا ہنر جانتی ہیں۔
اس سنگین عالمی صورتحال میں پاکستان ایک “سفارتی پل” کے طور پر ابھرا ہے۔ حال ہی میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا دورۂ ایران اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوا ہے۔ اس دورے نے نہ صرف دو ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بحال کیا بلکہ خطے کے امن کے لیے ایک نیا راستہ بھی کھولا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی اور اس کے تناظر میں پیدا ہونے والی بہتری ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، اور پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت نے جس طرح ایران کے ساتھ مل کر اس خطے میں تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے، وہ عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔
یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ پاکستان اب محض حالات کے رحم و کرم پر رہنے والا ملک نہیں رہا بلکہ وہ عالمی اور علاقائی فیصلوں میں ایک باوقار اور متحرک فریق بن چکا ہے۔ ریاست کا حالیہ متحرک “ٹرائیکا”—سپہ سالار جنرل عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ—جس تندہی اور ہم آہنگی کے ساتھ مصروفِ عمل ہے، وہ پاکستان کی حالیہ تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ اس تکون نے اپنی مسلسل سفارتی کوششوں سے دنیا کو پاکستان کی اہمیت کا قائل کیا ہے۔ ایران کی اسی جرات اور پاکستان کی اس نئی سمت کے حوالے سے اقبال کا یہ شعر کتنا حسبِ حال ہے:
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا!
تاہم، اس تمام تر بین الاقوامی پذیرائی اور سفارتی پیش قدمی کے درمیان ایک مخلصانہ تجویز اور وقت کا اہم ترین تقاضا “داخلی استحکام” کا ہے۔ جس دانشمندی سے اس ٹرائیکا نے عالمی بساط پر پاکستان کا وقار بلند کیا ہے، اسی جراتِ رندانہ اور تدبر کی ضرورت اب گھر کے اندرونی معاملات میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ ہماری داخلی سیاسی کشمکش اور کمزوریاں وہ دیمک ہیں جو ہماری بیرونی کامیابیوں کو چاٹ سکتی ہیں۔ اگر ہم عالمی سطح پر پیچیدہ گتھیاں سلجھا سکتے ہیں تو اپنے ہی گھر کے اندر مشاورت، یگانگت اور بھائی چارے کا راستہ کیوں مسدود ہے؟
صاحبِ اقتدار اور مقتدر حلقوں کو اب اپنی تمام تر توانائیاں قوم کو ایک صف میں کھڑا کرنے پر مرکوز کرنی چاہئیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قومی مفاد کی خاطر انا کے بت توڑے جائیں اور سیاسی قربانیوں سے گریز نہ کیا جائے۔ جس طرح اس ٹرائیکا نے دنیا کو اپنی اہمیت کا قائل کیا، اسی طرح اب ملک کے اندر بھی ایک ایسی فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں ہر اکائی کو یہ احساس ہو کہ اس کی رائے اور وجود کی اہمیت ہے۔ جب تک پوری قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بنے گی، تب تک بیرونی کامیابیوں کے ثمرات پائیدار نہیں ہوں گے۔ اصل طاقت عوام کے اتحاد اور داخلی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔
مستقبل ان قوموں کا ہے جو ہواؤں کا رخ دیکھ کر اپنے بادبان کھولنے کا ہنر جانتی ہیں، لیکن بادبان تبھی کارآمد ہوتے ہیں جب کشتی اندر سے مضبوط ہو۔ پاکستان کے پاس یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اس نئے عالمی نظام میں اپنا بھرپور حصہ وصول کرے۔ ٹرمپ کے بدلتے تیور ہوں یا ایران کا صبر و تحمل، پاکستان کو اپنی خودی اور قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھنا ہوگا۔ مقتدر ٹرائیکا سے قوم کی یہ توقع ہے کہ وہ جس طرح عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کر رہے ہیں، اسی طرح داخلی سطح پر بھی اصلاح، مفاہمت اور یگانگت کا کوئی پائیدار راستہ نکالیں گے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو مومن حق و باطل کے معرکے میں فولاد کی طرح سخت ہوتا ہے، اسے اپنوں کے درمیان ابریشم کی طرح نرم ہونا چاہیے۔ علامہ اقبال نے اسی فلسفے کو ان خوبصورت الفاظ میں سمویا ہے:
ہو حلقۂ یاراں تو ابریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی اناؤں کو پاکستان کے وسیع تر مفاد میں قربان کر کے ایک متحد قوت بن جائیں۔ اگر ہم نے آج اپنے اندرونی معاملات کو اسی دانشمندی سے حل کر لیا جس طرح ہم عالمی بساط پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ایک مؤثر عالمی معاشی و سیاسی قوت بننے سے نہیں روک سکے گی۔ مضبوط گھر ہی عالمی بساط پر بہترین قلعہ ہوتا ہے، اور آج پاکستان کو اسی قلعہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ “خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ” کی روح ہمارے قومی وجود میں پوری طرح جھلکنے لگے۔
Copyright 2026 Site. All rights reserved powered by Bluntline.
No Comments